
No summary available
گریٹر اسرائیل منصوبہ
گریٹر اسرائیل ایک متنازعہ نظریہ ہے جو فلسطین، لبنان، شام، اردن اور مصر کے کچھ حصوں پر اسرائیلی کنٹرول کا خواب دیکھتا ہے۔ یہ بائبل کی تشریحات اور صیہونی نظریات سے ماخوذ ہے۔ حالیہ برسوں میں، نیتن یاہو کی قیادت میں، غزہ پر حملوں اور 9 ستمبر 2025 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے (جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے) کو اسی توسیع پسندی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ حملہ حماس کے ٹھکانوں پر تھا، لیکن اسے عرب ممالک کے خلاف جارحیت سمجھا گیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نیا دفاعی معاہدہ
اس منصوبے کی ناکامی کا باعث بنا۔
معاہدے کی تفصیلات
17 ستمبر 2025 کو ریاض
میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک سٹریٹیجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی تاریخی شراکت داری کا تسلسل ہے، جو فوجی تربیت اور اقتصادی تعاون پر مبنی ہے۔ معاہدے کی اہم شق یہ ہے کہ ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ سمجھا جائے گا، اور جواب مشترکہ ہوگا۔ یہ معاہدہ پاکستان کی جوہری صلاحیت کو سعودی سلامتی سے جوڑتا ہے، جو سعودی عرب کے لیے ڈٹرنس فراہم کرتا ہے۔قطر پر اسرائیلی حملے نے سعودی عرب کو خطرے سے آگاہ کیا، کیونکہ یہ اشارہ تھا کہ اسرائیل عرب سرحدوں کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ پاکستان، جو فلسطین کا حامی ہے، نے اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ اپنی شراکت مضبوط کی۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی سلامتی کو یقینی بناتا ہے اور علاقائی استحکام کے لیے نیا اتحاد بناتا ہے۔
گریٹر اسرائیل کی ناکامی
یہ معاہدہ گریٹر اسرائیل کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔ سعودی عرب پہلے اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن کی طرف مائل تھا، جو ابراہام اکورڈز (2020) کا حصہ تھا۔ اس کے بدلے میں سعودی عرب کو امریکی دفاعی معاہدہ مل سکتا تھا۔ لیکن فلسطینی ریاست پر اسرائیل کی عدم رضامندی اور غزہ پر حملوں نے سعودی عرب کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ اس نے امریکہ سے محدود تعاون کیا اور پاکستان سے اتحاد کیا۔پاکستان کی جوہری صلاحیت، جو دنیا کی چھٹی بڑی ہے، سعودی عرب کے لیے ڈٹرنس ہے۔ اگر اسرائیل لبنان یا شام پر حملہ کرتا ہے، تو سعودی عرب اکیلا نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کی فوجی طاقت اس کے ساتھ ہوگی۔ پاکستان، جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، فلسطین کی حمایت میں او آئی سی میں سرگرم ہے۔ 25 اگست 2025 کو جدہ میں او آئی سی اجلاس میں پاکستان نے گریٹر اسرائیل کو مسترد کیا۔ سعودی عرب نے بھی فلسطینی ریاست کی حمایت کی۔یہ معاہدہ علاقائی توازن بدلتا ہے۔ اسرائیل کی حکمت عملی عرب ممالک کی تقسیم پر تھی، لیکن قطر پر حملے نے عربوں کو متحد کیا۔ سعودی عرب نے پاکستان سے اتحاد کیا، جو اس کی معاشی طاقت اور پاکستان کی فوجی طاقت کو ملا کر ایک مضبوط بلاک بناتا ہے۔
جیو پولیٹیکل اثرات
یہ معاہدہ امریکی پالیسی کو چیلنج کرتا ہے، جو سعودی اسرائیل نارملائزیشن کو ایران کے خلاف استعمال کرنا چاہتی تھی۔ سعودی عرب اب پاکستان کے ساتھ قریب ہو کر امریکہ پر کم انحصار کر رہا ہے۔ یہ ایران کے لیے بھی مثبت ہے، کیونکہ سعودی پاکستان تعلقات نے ایران سعودی کشیدگی کم کی ہے۔ عالمی سطح پر، یہ معاہدہ فلسطینی جدوجہد کو تقویت دیتا ہے۔ 13 ستمبر 2025 کو اقوام متحدہ میں پاکستان نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔ سعودی حمایت سے پاکستان کی آواز بلند ہوئی۔
چیلنجز اور مستقبل
اسرائیل اور امریکہ اس معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو معاشی بحران کا سامنا ہے، جو سعودی سرمایہ کاری سے حل ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کو داخلی اصلاحات کے ساتھ توازن رکھنا ہوگا۔ مستقبل میں، یہ معاہدہ ترکی یا ملائیشیا کو جوڑ سکتا ہے، جو ایک اسلامی دفاعی بلاک بنائے گا۔
نتیجہ
یہ معاہدہ گریٹر اسرائیل کی ناکامی کا اہم موڑ ہے۔ یہ سعودی عرب کو جوہری تحفظ دیتا ہے اور مسلم دنیا کی اتحادی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔ مسلم ممالک کو اسے عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ فلسطینی ریاست کی تشکیل ہو اور علاقائی امن قائم رہے۔